اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار کے ترجمان قریب الرحمان سعید نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران اعلان کیا کہ کابل میں حکمتیار کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور وہ کل کابل میں داخل ہونگے۔
طالبان کے افغانستان پر قابض ہوتے ہی گلبدین نے افغانستان چھوڑ دیا تھا اور ملک میں غیر ملکی فوجوں کے خلاف بھی انہوں نے اعلان جنگ کر دیا تھا۔
حکمتیار نے لغمان صوبے میں ایک پریس کانفرنس میں پہلی مرتبہ اپنی موجودگی کا اعلان کیا اور اس صوبے کے گورنر اور حزب اسلامی کے کارکنوں اور جہاد اسلامی کے رہنماوں سے ملاقات کے بعد ننگرہار کے جلال آباد شہر کا دورہ کیا تھا۔
انہوں نے ننگرہار میں اپنے قیام کے دوران اس صوبے کے گورنر گلاب منگل سے ملاقات کی تھی۔
حکمتیار کے دورہ ننگرہار کے بعد افغانستان کے نائب صدر نے انہیں کابل کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔
حزب اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ امین کریم نے کہا تھا کہ حکمتیار کی کابل آمد کے سلسلے میں چند شرائط میں سے ایک کابل حکومت کی جانب سے اس پارٹی کے تمام قیدیوں کی فوری رہائی ہے۔
اگرچہ کابل کی مرکزی جیل پلچرخی سے گزشتہ دنوں ہی اس پارٹی کے 55 قیدیوں کو آزاد کیا گیا ہے لیکن افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت اس تنظیم کے 68 افراد کو آزاد کیا جانا تھا۔
حزب اسلامی کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کی مداخلت کے سبب 13 افراد کی رہائی میں رکاوٹ پیش آئی ہے۔
حزب اسلامی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اپنے افراد کی رہائی میں پیش آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کیا اور کہا تھا کہ ان سب کے باوجود حکمتیار کابل کا سفر کریں گے۔
اس سے قبل ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ افغان حکومت نے حکمتیار کی آمد کے سلسلے میں کابل شہر کے علاقے دارالامان میں تین قیام گاہوں کا بندوبست کیا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ کابل آنے کے بعد حکمتیار غازی اسٹیڈیم میں اپنے حامیوں سے خطاب کریں گے۔
.......
/169